نواز شریف سے جان چھڑئیں 

khawar naeem hashmi
17

پردہ اٹھتا ہے
!نواز شریف سے جان چھڑئیں
خاور نعیم ہاشمی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Column
کالم (پردہ اٹھتا ہے) ہر جمعہ اور اتوار کو روزنامہ 92 نیوز میں شائع ہوتا ہے(Copyright)۔ اسےبغیراجازت چھاپنا،نقل کرنا،غیرقانونی ہے۔

ہم نے پچھلے کالم میں عورتوں اور بچوں کےخلاف  روز افزوں  بڑھتے
ہوئےجرائم پر نئی حکومت کی توجہ دلائی تھی،سو بچوں کے قاتل جاوید اقبال
کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا

،ایک جاگیر دار کو بھی سامنے لائے جو اپنے مزارعین کی عورتوں کو اپنی
رعیت اور اپنی ملکیت تصور کرتا تھا، جس دن پچھلا کالم چھپا اسی رات عمران
خان کا وزیر اعظم بننے کے بعد قوم سے پہلا خطاب تھا، انہوں نے اس اہم
ترین ایشو کو بھی ایڈریس کیا،جس پر ہم ان کے شکرگزار ہیں، نظام اس دن
بدلے گا جب  رعایا کو سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ  غلامی اورمحکومی سے
نجات دلا سکیں گے، افسوس ، پچھلے ستر سال سے انہی طبقات کی بالا دستی
رہی، بھٹو نے کھیت دہقان کے اور کارخانے مزدور کے کا نعرہ بلند کیا ،اس
نے پسے ہوئے طبقات کو سر اٹھانے کا سلیقہ دیا تو اسے عبرتناک انجام سے
دوچار کر دیا گیا، اب عمران خان اس طرف آئے تو انجام تو ان کا بھی وہی
ہوسکتا ہے، لیکن وہ آزادی کا دروازہ ضرور کھول جائیں گے جس پر تالے ہی
تالے لگے ہیں اور کنجیاں گم کر دی گئی ہیں، ابھی تو تحریک انصاف کی
حکمرانی کا ایک ہی ہفتہ مکمل ہوا ہے اور عمران خان کے سامنے پہاڑ جیسے
مسائل آن کھڑے ہوئے ہیں، لگتا ہے کہ ان کی توجہ ان کے ایجنڈے سے ہٹانے
کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نواز شریف کی بریت ہوتی ہے یا ان کی ضمانت؟ جو بھی ہو انصاف ملنا ہی
نہیں، انصاف دکھائی بھی دینا چاہئے کیونکہ اس مقدمے میں ایک فریق پاکستان
کے بائیس کروڑ لوگ بھی ہیں،

اشارے ہیں کچھ ہونے والا ہے،سابق اور سزا یافتہ وزیر اعظم نواز شریف
پہلے ایک سال تک چیختے رہے،، مجھے کیوں نکالا؟ مجھے کیوں نکالا؟ جب انہیں
اس سوال کا جواب دیدیا گیا تو نعرہ بدل لیا اور جیل سے صدائیں بلند ہونے
لگیں،، مجھے نکالتے کیوں نہیں، کیوں نہیں نکالتے مجھے؟ یہ واویلے ان تک
بھی پہنچ گئے جنہوں نے انہیں اٹھارہ سال پہلے بھی نکلوایا تھا اور اپنا
مہمان بنا لیا تھا، لیکن اب اگر وہ نکلوا لیتے ہیں تو کم از کم اپنا
مہمان تو نہیں بنائیں گے، دوسری جانب عمران خان نے بھی تیاریاں کر لی
ہیں، نواز شریف ان کی بیٹی اور داماد کے بیرون ملک جانے پر پابندی لگا دی
گئی ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ، کیا تحریک انصاف کے چیرمین انہیں  اڑ
جانے سے روک سکیں گے؟ گھمسان کا رن پڑنے والا ہے، اداروں میں تصادم اب
شاید نہ سنبھالا جا سکے،اب تو کوئی راستہ بھی نہیں بچا، ان سارے حالات
میں ہمیں کینڈا سے ایک دوست کی ایڈوائس اچھی لگی
…………………………………………………………………………
نواز شریف سے جان چھڑائیں، پاکستان کو آگے بڑھائیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم بھی آج جان چھڑاتے ہوئے اپنے قارئین کو حبیب جالب صاحب کی یادوں کے
جھروکے میں لئے جاتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تجربے کو کسی کتابی علم سے چیلنج نہیں کیا جا سکتا، میں ایسے  بے شمار
آوارہ گرد بزرگوں کے  قریب رہا ، جس کے باعث مجھے آسان زندگی گزارنے کا
ڈھنگ آ گیا، آج  کے کالم میں ذکر ہے حبیب جالب صاحب کا جو سفید کرتے
پاجامے پرکاٹن کا سلوکہ پہنا کرتے تھے(وہ واسکٹ جس کی بڑی بڑی جیبیں ہوتی
ہیں) سلوکہ عمومآ دوکاندار، بیوپاری اور سیاستدان ٹائپ لوگ نوٹ سنبھالنے
کے لئےقمیض کے نیچے پہنتے ہیں ،جالب صاحب  سرمایہ داروں سے انتقام لینے
کے لئے یہ سلوکہ کرتے کے

اوپر پہنا کرتے تھے، یہ بھی ممکن ہے ، وہ اپنی غربت پر پردہ ڈالنے کیلئے
ایسا کرتے ہوں ) سارے ہی موسموں میں جالب صاحب کے پیروں میں گھسے سینڈل
ہوتے، شاید اس لئے کہ کہیں نیند جائے تو جوتے اتارنا آسان رہے یا جوتوں
سمیت ہی سو جائیں ، موسم سرد ہوتا تو سر پر گرم ٹوپی اور جسم پر فل کوٹ
پہن لیتے، جالب صاحب گرمیوں میں شاعر اور سردیوں میں جاسوس لگا کرتے تھے،
میں چار پانچ سال کا تھا جب وہ ہمارے لکشمی چوک والے پروڈکشن آفس میں
دوپہر کو کھانا کھانے یا رات کو سونے کے لئے آ جایا کرتے تھے، ایک بار تو
انکی بیگم انہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہاں پہنچ گئی تھیں، جب ہمارا دور شروع
ہوا تو جالب صاحب روزانہ کہیں نہ کہیں ضرور دکھائی دے جاتے، وہ کئی بار
مال روڈ پر سہروردی،مجیب،بھاشانی اور ملک معراج خالد کے ساتھ  دکھائی
دیے، میاں محمود قصوری کے فین روڈ والے گھر اور ہائی کورٹ کے بوہڑ والے
درخت کے نیچے بیٹھنا ان کے معمولات کا حصہ تھا، 1970 میں جب میں نے
روزنامہ آزاد جوائن کیا تو جالب صاحب سے باقاعدہ ملاقاتیں شروع ہو گئیں،
مظہر علی خان کا دفتر اور نثار عثمانی صاحب کا گھر بھی ساتھ ہی تھا وہ
بھی ان کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے،، جالب صاحب مجھے بھتیجا کہہ کر مخاطب
کرتے ، عمر کم ہونے کے باعث مجھے لاہور پریس کی رکنیت دوسال بعد ملی تھی
، جب میں کلب ممبر بنا تو بابا ظہیر کاشمیری، ملک حامد سرفراز اور جالب
صاحب کے ساتھ  تاش کھیلے کا بھی اعزاز حاصل ہوا، یہ اس وقت کے صحافیوں کی
سستی ترین تفریح تھی، بابا  ظہیر کاشمیری  بہت،، تھوڑ دلے ،،  تھے ، اگر
کوئی باباجی سے پانچ  دس جیت جاتاتو چاہے دن چڑھ جائے وہ اسے اٹھنے نہیں
دیتے تھے، جالب صاحب وہاں پوری رات گزارنے آتے ، ان کے پارٹنر عام طور پر
مضبوط اعصاب کے لوگ ہوتے، جالب صاحب میرا بہت دھیان رکھتے ، جب وہ جیت کر
کلب سے اٹھتے تو مجھے اشارے سے ایک کونے میں لے جاتے اور پوچھتے اوئے
بھتیجے توں کنے ہاریا ایں،،،میں جھوٹ بولتا،،،، پورے سو۔۔۔۔ وہ مجھے
200پکڑاتے اور نکل جاتے، عمر کے آخری سالوں میں ان کی راتیں باری علیگ
صاحب کے پرانی انارکلی والے چوبارے اور مصطفی قریشی کے گھر بھی بسر
ہوئیں، باری علیگ کا یہ چوبارہ ان کے بڑے بیٹے مسعود باری کے تصرف میں
تھا، ان کے چوبیس گھنٹے مہمانوں کو ویلکم اور خدا حافظ کہنے میں گزرتے
تھے، ایک بار جالب صاحب نے وہاں روزانہ جانا شروع کر دیا، جالب صاحب جب
پرانی انار کلی چوک میں پہنچتے تو وہاں پان شاپ پر ایک نوجوان انکے
استقبال کے لئے کھڑا ہوتا ، وہ جالب صاحب کو پان اور سگریٹ کی ڈبیہ خرید
کر دیتا، ان کا بستہ ان کی بغل سے اپنے ہاتھ میں لیتا اور انہیں مسعود
باری تک پہنچاتا، یہ معمول ایک عرصے تک جاری رہا ، ہم سب اس کو جالب صاحب
کا دیوانہ سمجھتے رہے، ایک دن کیا ہوا ؟ جالب صاحب اپنا بستہ خود بغل میں
دبائے وہاں پہنچے ، ان کا دیوانہ ان کے پیچھے تھا، وہ بہت غصے میں نظر آ
رہا تھا اور بری طرح جالب صاحب کو گھور رہا تھا، جالب صاحب کے بھی ہوش
اڑے ہوئے تھے، کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا ، بڑی مشکل سے اس نوجوان کو
بولنے پر آمادہ کیا گیا، باقی بات آپ اسی نوجوان کی زبانی سنئیے

،، آپ لوگوں نے مجھے ان پڑھ سمجھا ہواتھا، اور میرے ساتھ دھوکہ کیا جا
رہا تھا،،، ہاں، میں ان پڑھ ہوں مگر میری باجی نے تو بی اے کیا ہوا ہے،
کل رات میں نے گھر میں ذکر کر دیا کہ آجکل میں غالب صاحب،، کے ساتھ اٹھتا
بیٹھتا ہوں وہ تو میری باجی نے بتایا کہ غالب کو مرے ہوئے تو سو سال
ہوگئے ہیں .

انقلابی شاعری اور ریاست کے خلاف باغیانہ کردار کے بعد جالب صاحب کی
تیسری بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ کبھی بھی کہیں بھی وہ ابنارمل یا مدہوش نہ
پائے گئے، جالب اپنے اشعار اپنے کلام کی تخلیق موسیقیت کے ساتھ کرتے تھے،
ان کا جو کلام فلموں کا حصہ بنا اس کی دھن جالب صاحب ہی بنی ہوتی تھی،
جالب صاحب اپنا کلام جس بہر جس رنگ میں بھی خود گاتے تھے، وہی موسیقار
اور سنگر کاپی کر لیتے تھے۔ ضیاء الحق کے مارشل لاء کیخلاف ہم نے صف بندی
کی تو جالب صاحب اگلی صفوں میں کھڑے تھے، انہی دنوں انسانی حقوق کی تنظیم
کے احتجاجی مظاہرے میں جالب صاحب کی پولیس کے ہاتھوں پٹائی کی تصویر تو
تاریخ کا حصہ بن چکی ہے، یہ تصویر ڈان کے اظہر جعفری نے اتاری تھی،

میرا تبادلہ لندن میں ہو گیا تو اطلاع ملی کہ جالب صاحب بہت بیمار ہیں،
بیماری بڑھ گئی تو

ایک میڈیا گروپ نے بیرون ملک علاج کی ذمے داری لے لی اور انہیں کرامویل
اسپتال لندن داخل کرا دیا گیا، میری رات سات بجے تک ڈیوٹی ہوتی تھی ،
چھٹی کے بعد اکثر جالب صاحب کی عیادت کو پہنچ جاتا، ایک دن جالب صاحب نے
کچھ پینے کی خواہش ظاہر کی تو میں نے ان کے ڈاکٹر سے بات کی ، ڈاکٹر نے
ایک ڈبے کی اجازت دیدی۔ ایک روز دوپہر کے قریب کوئی پاکستانی صاحب مجھ سے
ملنے ائے، انہوں نے بتایا کہ وہ برطانیہ میں پاکستانی بنک کے سربراہ ہیں،
وہ مجھ سے دریافت کرنے آئے ہیں کہ لندن میں مجھے کوئی پرابلم تو نہیں؟
اسی دوران کرامویل اسپتال سے میرے لئے ارجنٹ کال آئی، کال کرنے والا کوئی
گورا ڈاکٹر تھا، اس کا کہنا تھا کہ جالب صاحب کو ایک اٹینڈنٹ کی ضرورت ہے
اور ان کا اصرار ہے کہ آپ ان کے پاس ہوں میں نے ،،اوکے،، کہہ کر فون بند
کیا تو ایک خیال میرے دماغ میں کوندا کیوں نہ اپنے پاس بیٹھے ہوئے مہمان
کو جالب صاحب کے پاس بھجوا دوں؟ میں نے نجی  بنک کے اس سربراہ سے کہا،،
مجھے تو ابھی آپ کی مدد کی ضرورت پڑ گئی، وہ صاحب ہمہ تن گوش ہوئے، آپ
مہربانی فرما کر کرامویل اسپتال چلے جائیں ، وہاں جالب صاحب کو میرے وہاں
آنے تک کمپنی دیٕں، وہ صاحب رضامندی ظاہر کرکے میرے افس سے چلے گئے، رات
سات بجے کاپی پریس میں بھجوانے کے بعد میں ٹیوب میں بیٹھ کر اسپتال پہنچ
گیا ، جالب صاحب کا روم دوسرے فلور پر تھا، لفٹ جب اس فلور پر رکتی تو
بائیں جانب یہ پورا کمرہ نظر آجاتا ، میں نے لفٹ سے اترتے ہی دیکھا کہ
میرا بھجوایا ہوا آدمی کرسی پر بیٹھا ہے، وہ جونہی میرے استقبال کے لئے
کرسی سے اٹھا ، میں کمرے میں داخل ہو گیا، بستر پر پڑے جالب صاحب اس شخص
کی جانب منہ کئے پوری طاقت سے چلا رہے تھے اوئے بہن (سنسر) تو بار بار
کیوں کھڑا ہو جاتا ہےِ؟ تو آرام سے بیٹھ نہیں سکتا،،، اس کے بعد ایک گالی
اوروہ آدمی پھر کبھی مجھے نہیں ملا،

جواب چھوڑیں