معافی مسترد

khawar naeem hashmi
13

معافی مسترد
پردہ اٹھتا ہے
خاور نعیم ہاشمی

Column
کالم (پردہ اٹھتا ہے) ہر جمعہ اور اتوار کو روزنامہ 92 نیوز میں شائع ہوتا ہے(Copyright)۔ اسےبغیراجازت چھاپنا،نقل کرنا،غیرقانونی ہے۔

ساری عزت اللہ ہی کیلئے ہے، وہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے
ذلت دے،بے شک اللہ بزرگ و برتر ہی عزت دینے والا ہے، مگراللہ کی بخشی
ہوئی عزت کو سنبھال کر رکھنا بہرحال انسان کا کام ہے، یہ بھی درست ہے کہ
بہت سارے لوگوں سے عزت سنبھالی نہیں جاتی، یا آپ یہ کہہ لیں کہ انہیں
عزت راس نہیں آتی ، میں اپنا آج کا کالم کراچی کے اس شہری داؤد چوہان
سے منسوب کرتا ہوں جنہیں پی ٹی آئی کے نو منتخب رکن سندھ اسمبلی عمران
علی شاہ نے سرعا م تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں بےعزت کرنے کی کوشش کی،
اللہ کی شان دیکھئے عمران کیا، اس اوچھے رکن سندھ اسمبلی کی رعونت کا
شکار بننے والے اعلی سرکاری افسر علی شاہ نامی یہ ایم پی ات خود دنیا
جہان میں بے عزت ہو گیا، عمران علی شاہ نے اس واقعہ پر جو معافی مانگی ہے
اسے پورے سماج نے مسترد کر دیا ہے، اس ایم پی اے نے معافی نہیں مانگی جان
چھڑانے کی کوشش کی ہے، وہ تو اس غیر ملکی دوشیزہ کی مانند بھی شرمندگی کا
اظہار نہ کر سکے جس پر پاکستانی پرچم کی بے حرمتی کرنے کا الزام ہے، میرے
والد محترم نعیم ہاشمی صاحب نے انیس سو ستاون میں ایک ذاتی فلم بنائی
تھی۔۔نگار۔۔ اس فلم کی کہانی کی تھیم تھی۔۔۔ دنیا میں زندہ رہنے کیلئے
طاقت انتہائی ضروری چیز ہے مگر طاقت کا احساس انسان کو بھیڑیا بنا دیتا
ہے،، یہی وہ طاقت کا احساس تھا جس نے عمران علی شاہ کو بھی تحریک انصاف
کا ایم پی اے بننے کے بعد بھیڑیا بنایا اور اس نے ایک شریف آدمی کی عزت
کو سربازار رسوا

داؤد چوہان اہنے چار نواسے نواسیوں اور پوتے پوتیوں کے ساتھ اپنے رشتہ
داروں کے گھر جا رہے تھے، ان بچوں کی عمریں جن کے سامنے ان کے نانا اور
دادا کو مارا گیا اور توہین کی گئی تین سے چھ سال کے درمیان ہیں، جب یہ
واقعہ رونما ہو رہا ہوگا ان معسوموں پر کیا بیت رہی ہوگی؟ یہ شریف آدمی
اپنی باقی عمر ان معصوم بچوں کے سامنے کیسے کاٹے گا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے
جو اس واقعہ اور اس کہانی کا کلائمکس ہے ، میں سماجی رویوں کے تجربات کی
روشنی میں برملا کہہ سکتا ہوں کہ یہ شخص اب زیادہ دن جی نہ پائے گا،جب اس
بزرگ پر تھپڑ برسائے جا رہے تھے وہ عمران علی شاہ سے اپنا قصور پوچھ رہا
تھا وہ کہہ رہاتھا بیٹا، میں تمہارے باپ کی عمر کا ہوں ۔۔ حیرانی کی بات
یہ ہے کہ داؤد چوہان کی گاڑی ایک تیسرے آدمی کی گاڑی سے رگڑی گئی تھی
اور اس ایم پی اے کا اس بات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں بنتا تھا، اس
سانحہ کے بعد عمران علی شاہ کی سوتیلی ماں اور سوتیلا بھائی بھی سامنے
آئے ہیں،اس کی سوتیلی والدہ پروفیسر ریحانہ شاہ عباسی شہید اسپتال کراچی
میں گریڈ بیس کی آرتھو پیڈک سرجن ہیں، ان کا کہنا ہے کہ عمران نے اسپتال
آکر ان پر جسمانی تشدد کیا تھا اور جعلی دستاویزات بنوا کر انہیں اور ان
کے بیٹے کو وراثتی جائیداد سے محروم کردیا، اس خاتون کا کہنا ہے کہ وہ
اور ان کا بیٹا عمران علی شاہ کے ایم پی اے بننے کے باعث ڈر گئے ہیں،
لوگوں نے عمران خان کو ن لیگ کے اسی بدمعاشانہ کلچر کے خلاف ووٹ دیے، کیا
اب لوگ یہ سوچنے پر مجبور نہیں ہونگے کہ ایک ڈاکو گیا دوسرے آگئے؟ اس سے
پہلے کہ کوئی دوسرا ادارہ حرکت میں آئے عمران خان کو اپنے ہم نام ایم پی
اے کے خلاف سخت ایکشن لینا ہوگا، متاثرہ شہری داؤد چوہان نے تو ہاتھ اٹھا
دیے ہیں کہ وہ دشمنیاں نہیں پال سکتے، تحریک انصاف کے قائد کو شیروانی
پہننے سے پہلے اس واقعہ پر انصاف کرنا ہوگا، اگر یہ نہ ہوا تو ایسے
واقعات روزانہ رونما ہوتے رہیں گے، تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری سے
بھی ایک بڑی غلطی سرزد ہوئی ہے، ان کا یہ بیان کہ ن لیگ نے اپنا رویہ نہ
بدلاتو نواز شریف کے جیل میں ٹرائل کے فیصلے پر نظر ثانی ہو سکتی ہے۔۔۔۔
یہ کسی باوقار آدمی کے کمنٹس نہیں ہو سکتے، یہ الفاظ تکبر میں لتھڑا ہوا
کوئی شخص ہی بول سکتا ہے

میں نے کراچی میں تحریک انصاف کے ایم پی اے کی دہشت گردی پر ڈاکٹر فردوس
عاشق اعوان کو ردعمل دیتے ہوئے بھی سنا، ان کا رویہ ویسا ہی تھا جیسا کہ
انہوں نے سیالکوٹ میں دو بھائیوں کو درندگی سے مارے جانے پر اپنایا تھا

عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو بہت احتیاط کا مظاہرہ کونا ہوگا، عدلیہ
میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس اطہر من اللہ بھی بیٹھے ہوئے ہیں،
ابھی تو اقتدار کی کہانی شروع بھی نہیں ہوئی اور اس کہانی کے کردار سامنے
آنے لگے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قومی اسمبلی کے نو منتخب ارکان کی تقریب حلف بردارمیں عمران خان کے رویے
نے سب کو حیران کیا، بلاول بھٹو اور آصف زردای کی جس انداز میں پذیرائی
کی گئی اور جس گرمجوشی سے عمران خان خود ان کے استقبال کیلئے آگے بڑھے،
اس پر کچھ سیاسی حلقوں کو حیرت ہوئی، لیکن کارزار سیاست کا یہی تقاضہ
تھا، جمہوریت میں جاندار مخالفت نہ ہو تو جمہوریت ، جمہوریت نہیں رہتی
شہباز شریف نے عمران خان کو اپنی پذیرائی کا موقع ہی نہ دیا ورنہ عمران
خان تو تیار بیٹھے تھے، شہباز شریف کی ایوان میں موجودگی عدم موجودگی کی
طرح تھی،وہ عبدللہ کی شادی میں بیگانے بیگانے لگے، وہ سر جھکائے آئے
اورخامشی سے واپس چلے گئے،شہباز شریف موجودہ ایوان میں ایک بڑی اپوزیشن
کے قائد ہیں،انہیں وہاں سر اٹھا کر کھڑا ہونا چاہئے تھا، لیکن وہ رنجیدہ
رنجیدہ دکھائی دیے، تیس سال تک بلا شرکت غیرے حکمرانی کرنے والے شریف
خاندان نے معروضی حقائق قبول نہیں کئے، حالات و واقعات کا درست طور پر
ادراک نہ کیا گیا تو رہا سہا بھی ختم ہوجائے گا، جن مقتدر طاقتوں کی اب
تک ن لیگ کو سرپرستی حاصل رہی، ان قوتوں سے مزید چھیڑ چھاڑ اچھی نہیں،
شہبازشریف اپنے مبینہ قائد نواز شریف کے چنے ہوئے راستے سے دور رہے، ان
کا خیال تھا کہ انہیں نواز شریف کے متبادل کے طور پر قبول کر لیا جائے
گا، مگر یہ ان کی غلط فہمی تھی، اسٹیبلشمنٹ زمینی حقائق کی بھی مرہون منت
ہوتی ہے، کسی کو لانے کیلئے اور کسی کو ہٹانے کیلئے زمین ہموار کرتے
کرتے سالوں کا عرصہ لگ جاتا ہے، آج اگر ن لیگ عمران خان کو تسلیم کر
لیتی ہے تو فیصلہ ن لیگ کے مستقبل کے لئے مثبت ہوگا، اگر آپ یہی کہتے رہ
گئے کہ پی ٹی آئی کو زبردستی مسلط کیا گیا ہے تو یہ سوال بھی موجود رہے
گا کہ،، آپ کو بھی تیس سال تک قوم پر جبری طور پر مسلط رکھا گیا، ،،،ن
لیگ اس اٹل حقیقت کو ہمیشہ ذہن نشین رکھنا ہوگا کہ پیپلز پارٹی کبھی بھی
اور کہیں بھی اس کے ساتھ نہیں کھڑی ہوگی ، حالیہ سیاست گری میں اگر کسی
کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا ہے تو وہ صرف پیپلز پارٹی ہے، جو حالیہ الیکشن
میں تیسرے نمبر پر رہی، ن لیگ نے نواز شریف جیسا غصہ ختم نہ کیا تو دوسری
بڑی پارٹی پیپلز پارٹی ہوگی، ن لیگ کو اپنے مقام پر رکھنے کیلئے نواز
شریف کو جیل سے کئی شریفانہ، عقلمندانہ اور مفاہمانہ بیانات جاری کرنا
پڑیں گے

نواز شریف کو بکتر بند گاڑی سے اتار کرلینڈ کروزر میں بٹھا دیا گیا ہے،
اس لینڈ کروزر کا رخ کسی بھی دن جاتی عمرہ کی طرف بھی تو ہو سکتا ہے، مگر
ابھی نہیں،،، کیونکہ پہلے شریفوں کو بہت کچھ کرنا اور بہت کچھ کہنا پڑے
گا، جیسے۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ کرے کہ عمران خان کی حکومت بھی پانچ سال پورے کرے

جواب چھوڑیں