آسٹرولوجسٹ ماموں عبداللہ شوکت کے گھر رونما ہونے والا ایک حیرت ناک واقعہ

274

ہم اکثر سنتے ہیں’’فلاں نے فلاں کو ماموں بنا دیا‘‘ لیکن ہم یہ کبھی نہیں بتاتے کہ خود کتنی بار ’’ماموں ‘‘بنے ہیں ۔ ماموں بننے کے لئے صرف بہن کا بال بچوں والی ہونا ہی ضروری نہیں، آپ کی بچپن کی محبت، یا جوانی کی محبوبہ کسی دوسرے سے بیاہی جائے تو بھی آپ ماموں ہی بنتے ہیں،،شادی شدہ عورت کو کسی کی نیت میں خرابی نظر
، ماموں ماموں کی تکرار بند کرکے ہم آتے ہیں اپنے اصل ماموں کی طرف،، جگت ماموں ،، ماموں شوکت عبداللہ کسی زمانے میں اخباروں رسالوں میں پڑھا کرتے تھے’’ فلم ایکٹر بننے کے لئے مشتاق کا پان کھانا بہت ضروری ہے‘‘ مشتاق کی پان شاپ لکشمی چوک میں ہوا کرتی تھی ، یہ ہوٹل کنگ سرکل کے دروازے کے ساتھ ہی تھی، فلم ایکٹروں ، شاعروں ، ادیبوں اور دانشوروں کی تاریخی بیٹھک ہوٹل کنگ سرکل تواب نہیں ہے ، لیکن مشتاق پان شاپ ،حیدر پان کے نام سے موجود ہے، حیدر، مشتاق کا بیٹا ہے ، اس نے پان بیچ بیچ کر اتنا مال کما لیا کہ کنگ سرکل خرید کر وہاں کئی منزلہ حیدر ہوٹل بنا دیا۔ کنگ سرکل کے حوالے سے میرے پاس کہانیوں کی تعداد کراچی کے نیپئیر روڈ کی بلڈنگ ’’بلبل ہزار داستان‘‘ کی داستانوں سے بھی زیادہ ہے، مشتاق پان شاپ کا ذکر تو ویسے ہی آگیا ، بات تو کرنا تھی نعیم طاہر شیخ کے ریگل چوک والے ڈیرے کی ، جو بعد از مالیاتی انقلاب کوئینز روڈ پر منتقل ہو گیا تھا،
طاہر شیخ کا دعوی تھا کہ جو اس کی بیٹھک میں نہیں بیٹھتا وہ کامیاب صحافی ہو سکتا ہے نہ کالم نویس۔ شاید یہی وجہ ہو کہ وہاں نذیر ناجی ، منو بھائی ، عباس اطہر ، خالد چوہدری، عبدالقادر حسن ، سید امجد حسین، حسن نثار ، مولوی ہارون رشید، ایاز میر، ثقلین امام حتی کہ چیف دانشور ’’الامہ‘‘ صدیق اظہر کو بھی بیٹھنا پڑتا تھا، کبھی کبھی منیر نیازی بھی شغف فرمانے میرے ساتھ وہاں چلے جاتے،،،جب طاہر شیخ کے مطلوبہ مہمان پورے ہوجاتے تو وہ کسی’’ ثقافتی‘‘ مہمان کو بھی بلوا لیتا،، اور ان غیر صحافتی مہمانوں میں کبھی کبھی وہاں جگت ماموں عبداللہ شوکت بھی نظر آ جاتے،
ماموں ہزار خوبیوں والے شخص ہیں، انہیں ستارہ شناس کے طور پر جاننے والوں کو یہ پتہ نہیں ہوگا کہ جتنا میوزک کو وہ جانتے ہیں اتنا کئی موسیقار بھی نہیں جانتے ہوں گے۔ایک رات میں اس ڈیرے پر پہنچا تو ماموں کلاسیکل موسیقی کے پکے راگ الاپ رہے تھے، سب لوگ ہمہ تن گوش تھے، جس عمر کے صحافی نعیم طاہرکے ڈیرے پر جاتے تھے ، اس عمر میں تو بھینس کو بھی موسیقی سے رغبت ہو جا تی ہے۔ ماموں پکے سر لگا رہے تھے۔واہ واہ کے ساتھ فرمائشیں بھی چل رہی تھیں، ماموں کا چہرہ مجھے کچھ شناسا، شناسا لگا ، اور پھر مجھے یاد آگیا،،، یہ وہ وہی ماموں ہیں جو میرے والد کے بھی ماموں تھے، اچھرہ کے پیر غازی روڈ والے کرائے کے مکان کے صحن میں جب بڑے ہاشمی صاحب بہت سارے چولہے جلا کر بیک وقت مچھلی کی کئی ڈشیں خود بنایا کرتے تھے ، تو اکثر دروازے پر ایک زور دار آواز گونجا کرتی تھی ’’’’ بھانجے‘‘‘ بھانجھے کی یے بہت لمبی ہوا کرتی تھی جوابآ، ہاشمی صاحب کا جواب گونجتا جو سارا محلہ سن سکتا تھا ’آ جاؤ ماموں ‘ اوقت گزرتا گیا اور وقت کی رفتار کے ساتھ ہاشمی صاحب بھی گزر گئے، میں ماموں کو تیس سال بعد دیکھ رہا تھا، سب ویسا ہی تھا، بس ، بال سفید اور گنجا پن نمایاں ہو گیا تھا، ماموں سے دوستی ہو گئی ، وہ میرے گھر آجاتے اور کبھی میں انکی میزبانی کا لطف اٹھانے رحمان پورہ ان کے گھر جاتا،
ماموں اب زندگی کی نویں دہائی میں سفر کر رہے ہیں گلوکار اور اداکار بننا چاہتے تھے، میں ایسے بہت سے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو ایکٹر بننا چاہتے تھے، دال نہ گلی تو پیر فقیر یا صحافی بن گئے ۔۔۔ جیو نیوز سن دو ہزار دو میں شروع ہوا تو ماموں کو بھی ایک پروگرام مل گیا ’’ بولتے ستارے‘‘ ماموں عالمی سطح پر مشہور ہوگئے، لگتا تھا ، جیسے ساری دنیا ماموں کی مدد سے اپنے مستقبل میں جھانکنا چاہتی ہے، ماموں نے بے نظیر بھٹو کے قتل کی بھی پیش گوئی کی تھی ۔ایک رات کسی’’ ثقافتی تقریب ‘‘میں بٹ نامی ایک نوجوان سے میری ملاقات ہوئی ، جنرل مشرف کے ’’انقلاب‘‘ اور نواز ، شہباز کی جلا وطنی کے باعث اس کی ٹھیکیداری کو زوال آ گیا تھا،اس نے فرمائش کی کہ میں اسے ماموں سے ملوا دوں
، یہ شخص ایک رات میرے آفس آگیا، میں نے ماموں کو فون کیا جواب ملا’’سب کچھ ہے ، آ جاؤ‘‘ میں بٹ کو اپنی گاڑی میں بٹھا کو ماموں کے ڈرائنگ روم تک پہنچ گیا، ایک ٹیبل پر گلاس اور کھانے کے برتن موجود تھے ، ماموں نے میزبانی شروع کر دی، ماموں جب بھی کوئی چیز لینے ڈرائنگ روم سے باہر جاتے ، یہ بٹ اشاروں کنایوں سے ان کا مذاق اڑانے لگتا ، وہ اپنی قسمت اور مستقبل کا حال جاننے آیا تھا ، ماموں مہمان نوازی اور یہ بد تمیزی کر رہا تھا، ، میں ماموں یا کسی بھی نجومی کو ہاتھ دکھانے یا اپنا زائچہ بنوانے کے سخت خلاف ہوں ، لیکن یہ آدمی تو منت ترلہ کرکے میرے ساتھ یہاں آیا تھا، اس کے اشارے کنائے مجھے غصہ دلا رہے تھے، میرا بی پی ہائی ہونے لگا، اسی کیفیت میں بٹ کوغور سے دیکھا تو مجھے بٹ کے چہرے میں کسی اور کا چہرہ نظر آیا ، میں نے فی البدیہہ پوچھ لیا’’ آپ کا عنایت حسین بھٹی کی فیملی سے کوئی تعلق ہے؟‘‘ بٹ نے اسی رفتار سے جواب دیا’’ آپ کو کیسے پتہ ہے؟ عنایت حسین بھٹی تو میرے والد کے گہرے دوست تھے ، اکثر کھانا کھانے بھی ہمارے گھر آ جایا کرتے تھے‘‘ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا ، میں بھی چپ ہی رہا، ہم جلد ہی ماموں کے گھر سے رخصت ہو گئے اس نے ماموں کے زائچہ بنانی کی بھی بات نہیں کی تھی، اب میں نے بٹ کو علامہ اقبال ٹاؤن اس کے گھر ڈراپ دینا تھا ، کیونکہ اس کے پاس گاڑی نہیں تھی، وہ اپنے گھر کے دروازے پر خاموشی سے اتر گیا، راستے میں بھی ہم دونوں میں کوئی مکالمہ نہیں ہوا تھا۔ اس کے بعد وہ بٹ مجھے کبھی نہیں ملا ۔

( نوٹ۔۔۔ مجھے بٹ کے چہرے میں عنایت حسین بھٹی صاحب کے بیٹے کی جھلک نظر آئی تھی)

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.