فرعون اور فرعونیت کے پیروکار!

208

فرعون اور فرعونیت کے پیروکار!

حقوق اشاعتِ(copyright)صرف ہمارے پاس محفوظ ہیں۔اسےبغیراجازت چھاپنا،نقل کرنا،غیرقانونی ہے۔

خاورنعیم ہاشمی میڈیاگروپ

تبدیلی پاکستان میں تو نہ جانے کب آئے گی کیونکہ ہمارے سیاست دان اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں اور باور کرتے ہیں کہ ان کی سیاست روز قیامت تک قائم رہے گی ، کیا انہیں یاد نہیں کہ فرعون جو اللہ تعالیٰ کی اس زمین پر خود کو خدا سمجھ بیٹھا تھا اسے غرق ہونا پڑا اور ہزاروں سال بعد اس کی لاش عبرت کا نشان بننے کے لئے پانی سے باہرنکل آئی اور آج تک کبھی مصر میں اور کبھی فرانس کے عجائب خانوں میں کیمیکل ٹریٹمنٹ کے لئےلیجائی جاتی ہے۔

میں اپنی کاروباری مصروفیات کے سلسلے میں دسیوں بار مصرگیا مجھے ایک دن نہیں بھولتا جب میں ایک مصری جنرل یوسف بن سبحان کے دفتر میں بیٹھا گپ شپ لگا رہا تھا کہ اس کے کمرے میں جنرل احمد العطار تشریف لائے اور باتوں باتوں میں انہوں نے مجھے کہا کہ مسٹراحمد! ایک چیز اپنے ذہن میں رکھنا کہ ہم مصریوں کا دماغ  بہت بڑا ہوتا ہے ۔ میں نے وضاحت چاہی تو جنرل یوسف بن سبحان نے اپنی میزبانی کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے مجھے انتہائی شگفتگی سے کہا کہ ہم مصری بے شک مسلمان ہو چکے ہیں مگر ہمیں ناز ہے کہ ہم  فرعونوں کی اولاد ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمیں عربی زبان پر مکمل عبور حاصل ہے اور ہم علاقائی طور پر افریقی ہونے کے باوجود سب سے اعلیٰ عربی ا نسل ہیں ۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جن دنوں میاں نواز شریف کا پہلا دور حکومت تھا ۔ مجھے معلوم تھا کہ کس طرح ایک جرنیل نے نواز شریف کو آئی ایس آئی کی مدد سے الیکشن جتوایا اور میرے ذہن میں یہ بھی تھا کہ وہ ایک آمر کے لگائے ہوئے پودے تھے مگر مجھے یوسف بن سبحان کی بات سے اختلاف تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ نواز شریف کے طرز حکمرانی اور حسنی ِمبارک کے طریقہ حکومت میں کوئی ذیادہ فرق نہ تھا اور شائدمیاں نواز شریف بھی اپنے آپ کواعلٰی دماغ کا مالک سمجھتے تھے۔

نواز شریف کی پے درپے دو ادوار حکومت ختم ہونے کے باوجود انہوں نے تاریخ اور سیاست سے کچھ سبق حاصل نہ کیا اورتیسری دفعہ بھی حکومت کا موقع ملنے کے باوجود ان کے انداز سیاست میں کچھ بھی فرق نہیں آیا  اور یہ بالکل مصری جرنیلوں کی طرح اپنے آپ کو عقل کل اور کامل سیاست دان تصور کرنے لگے۔

اس کے ساتھ ساتھ میں یہ کہنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتا کہ نواز شریف ایک شہنشاہ کی طرح امور حکومت سرانجام دینا شروع ہو گئے جس کا انجام ان کی حکومت کے تیسری بار ختم ہونے کی صورت میں ہم سب پاکستانیوں پرظاہر ہو چکا ہے۔

یہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ فرعون صرف مصر میں نہیں ہوتے بلکہ فرعونیت ایک طرزعمل کانام ہے اور رب کی عطا کی ہوئی حکمرانی  کو اپنی عقل سے حاصل کردہ کامیابی تصور کرنے والے تمام حکمران درحقیقت فرعون یا فرعونیت کے پیروکار ہوتے ہیں ۔

سعودی عرب کو ہی لیجئے جس طرح موجودہ ولی عہد نے امریکن لابی  سے متا ثر ہو کر اصلاحات کا اعلان کیا اور اس کے بعدچند دنوں میں سعودی شہزادوں سے اختیارات چھین کرانہیں جیل میں ڈال دیا اور جس نے فرار ہونے کی کوشش کی اس کا ہیلی کاپٹر مار گرایا اور جس نے حکم عدولی کی اسے گولیوں سے بھون دیا اور اس کے ساتھ ساتھ یہ اعلان کردیا کہ ان شہزادوں اور امرا کو عام شہریوں کی طرح سزائیں دی جائیں گی یہ قابل غور امر ہے کہ اس انقلابی اقدام کے نتیجے میں تخت سعود ڈگمگاتا نظرآ رہا ہے۔

سو کے لگ بھگ شاہی خاندان کے افراد اور اشرافیہ جو محلات میں رہنے کے عادی تھے ان کو زمین پر رات بسر کررہے  ہیں اور آنے والے جمعہ کے روز سے مقدمات کا سامنا کرنے کے منتظر ہیں ۔ کچھ اسی طرح کی تبدیلی پاکستان میں بھی اشد ضروری ہے تاکہ پاکستانی عوام بھی انصاف ہوتا دیکھ سکیں۔

نواز شریف کے لئے سعودی دروازے بند ہو گئے کیونکہ جن شہزادوں کے ساتھ ان کی دوستیاں تھیں وہ اس وقت قید میں ہیں مگر افسوس کہ نواز شریف نے شہنشا ہیت کے انجام سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔  آج بھی نواز شریف بضد ہیں کہ وہ اپنی سیاسی  پارٹی کی کمان مریم نواز کو سونپنا چاہتے ہیں اور خدشہ ہے کہ کہیں شریف خاندان میں بھی اندرون خانہ کوئی انقلاب نہ برپا ہوجائے کیونکہ حال ہی میں قومی اسمبلی کے دو اجلاس ایسے گزرے ہیں جن میں حکومتی پارٹی کے اراکین شامل نہیں تھے حالانکہ حکومتی پارٹی خود آئین میں ایک ترمیم لانا چاہتی ہے جس کے ذریعے نیب کو ختم کر کے احتساب کمیشن بنانے کی تیاری ہے ۔ اگراحتساب کمیشن بن جاتا ہے تو نیب کے قائم کردہ مقدمات خود بخود ختم ہو جائیں گے اور میاں نواز شریف دوبارہ   با اختیار سیاست دان بن جائیں گے ۔

لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ مسلم لیگ میں کوئی اندرونی طاقت ایسی بھی ہے جس نے مسلم لیگی اراکین قومی اسمبلی کو اجلاس میں شرکت سے روکا تھا۔

کچھ دن پہلے میں مغل شہناہیت اوراس کی بربادی کے بارے میں  تحریر کر چکا ہوں اورمحسوس کر رہا ہوں کہ اندرون خانہ مسلم لیگ میں کوئی تو ہے جس نے اجلاس کو ناکام بنانے کے لئے تگ و دو کی اور مسلم لیگی اراکین کوشامل نہ ہونے دیا ۔

سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے خود ہی اندازہ لگا لیں کہ اندون خانہ  وہ کون شخصیت ہے جسے نواز شریف کی نااہلی کے بعد طاقت ملنے کا امکان تھا۔

مگر نواز شریف کی وراثتی سوچ کی وجہ سے یہ طاقت مسلم لیگ میں کسی کو منتقل نہ ہو سکی اور نواز شریف آج بھی اپنا جانشین  مریم نواز کو سمجھتے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کی بنیاد ، جدوجہد و کامیابی کا سہرا صرف نواز شریف کے سر نہیں جاتا ۔

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر خاص وعام کو معلوم ہے کہ شہباز شریف کی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لئے جدو جہد اورقربانیاں نواز شریف سے کم نہیں ہیں ۔

بیچارے شہباز شریف نہ تو پارٹی کے صدر بنے اور نہ ہی مستقبل میں  نواز شریف انہیں پرائم  منسٹر بننے کا موقع دیں گے۔

پاکستان میں سیاست دانوں کی بد عنوانیوں اور مالی امور میں  بے ضابطگیوں کو ختم کرنے کے لئے ہمیں بھی سعودی ولی عہد کی طرح انقلابی اقدامات اٹھانا ہونگے کیونکہ اسی میں ہی پاکستان کی سالمیت اور بقا ہے ۔

Columnist1598@gmail.com

 

 

 

 

 

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.