صوابدیدی دانشوروں سے تعزیت

khawar naeem hashmi
31

صوابدیدی دانشوروں سے تعزیت

پردہ اٹھتا ہے

خاورنعیم ہاشمی
————————————

Columnکالم (پردہ اٹھتا ہے) ہر جمعہ اور اتوار کو روزنامہ 92 نیوز میں شائع ہوتا ہے(Copyright)۔ اسےبغیراجازت چھاپنا،نقل کرنا،غیرقانونی ہے۔

عہد جدید میں سب سے زیادہ خطرناک چیز کا نام ہے بچے، اللہ پناہ، آجکل تو
بچے بالوں اور دانتوں سمیت بھی پیدا ہونے لگے ہیں، اب اس بات سے بھی کوئی
فرق نہیں پڑتا کہ کس بچے کی پیدائش کس گھر میں ہوتی ہے،مولوی صاحب سے
کترینہ کپور تک اور کسی سیاستدان سے دیہاڑی دار تک سبھی کے گھروں میں ایک
ہی ماڈل کے بچے پہنچ رہے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ان بچوں سے استفادہ
کیا جائے، اور یہ اسی صورت ممکن ہے کہ انہیں قومی تحویل میں لے لیا جائے،
عمران خان تو ویسے ہی نوجوانوں کے لیڈر تصور کئے جاتے ہیں اگر وہ اس سال
پیدا ہونے والے تمام بچوں کو نیشنلائز کرلیں تو ان کا اپنا فیوچراور بھی
محفوظ ہو سکتا ہے، جب یہ بچے پانچ سال کی عمر تک پہنچیں گے تو اگلے
الیکشن بھی سر پر ہونگے، آج جن بچوں کی عمر پانچ سال ہے سن دو ہزار تئیس
میں وہ دس سال کے ہو چکے ہوں گے، اس وقت کوئی ن لیگ یا نواز شریف ہو نہ
ہو، یہ بچے ہی خان صاحب کا حساب کتاب لینے کیلئے کافی ہونگے،اسی دوران
اگر خود عمران خان بچوں والے ہوگئے تو سونے پر سہاگہ ۔۔

میری نواسی ایا دو سال کی ہو چکی ہے، میں نے اسے کسی شرارت پر ٹوکا،، ایا
، تم بہت بد تمیز ہو،، جواب ملا ،،یس، پاپا،،

مجھے آجکل کےبچوں کی اہمیت کا خیال صوابی کے ایک بچے کو دیکھ کرآیا جس
نے ٹیکنالوجی کی مدد سے عمران خان کو روزانہ حساب دینے کا پابند بنا دیا
ہے، اس بچے نے ایک ویب سائٹ بنا لی ہے جس کا نام،، خان میٹر،، رکھا ہے،
یہ ویب سائٹ سو دن تک روزانہ اوروہ بھی چوبیس گھنٹے عمران خان کی
کارکردگی کو مانیٹر کرے گی،اس پر کپتان کے وعدوں کے ساتھ چار بٹن لگائے
گئے ہیں،

1.Not Started 2 In Progress 3.Achieved 4.Broken

پہلے بٹن میں وہ وعدے اور منصوبے ہونگے جو ابھی شروع ہی نہیں کئے گئے،
دوسرا بٹن ہے ان وعدوں کا،جن پر کام شروع کر دیا گیا ہے، تیسرے نمبر پر
وہ کام ہونگے جو وعدے کے مطابق ایفاٗ کر دیے گئے ہونگے اور چوتھا بٹن بہت
خطرناک ہے، یہاں وہ وعدے ہون گے جو توڑ دیے گئے، عمران خان کی حکومت کے
آج نو دن مکمل ہو رہے ہیں باقی رہ جاتے ہیں اکانوے دن، حکومت کہاں کھڑی
ہے؟ دیکھ لیں ابھی ویب سائٹ خان میٹر پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کمپرومائز یعنی کسی بھی امر پر سمجھوتہ کر لینا، یہ ہمیشہ سے ہمارے
معاشرے کا وطیرہ رہا ہے، پاکستان میں تو پچاس سال تک بننے والی ساری
فلموں کی کہانیوں کا انجام بھی سمجھوتہ ہی رہا، فلم کا ولن یا ویمپ تین
گھنٹے مسلسل ظلم اور نا انصافیاں کرتے دکھائی دیتے تھے اور فلم کے آخری
پانچ منٹوں میں ظالم اور جابر کو معافی ماگتے ہوئے دکھایا جاتا اور سارا
گھرانہ ہنسی خوشی زندگی گزارنا شروع کر دیتا اور پھر پردہ گرا دیا جاتا،
فلموں میں انقلابی تبدیلی اس وقت آئی جب اسی کی دہائی کے شروع میں ہمارے
مرحوم دوست حفیظ احمد نے بھٹی برادران کیلئے پنجابی فلم ،ظلم دا بدلہ،
لکھی، یہ پاکستان کی پہلی فلم تھی جو سو ہفتوں سے بھی زیادہ چلی اور ایک
بہت بڑی تبدیلی کا باعث بنی، حفیظ احمد کو فلمی دنیا میں کم اور سول
سوسائٹی میں زیادہ پذیرائی ملی، کئی سال تک اسے ادبی اور ثقافتی تقریبات
میں مہمان خصوصی کے طور پر بلوایا جاتا رہا،اسے ،وحشی جٹ، اور ،مولا جٹ،
لکھنے والے ناصر ادیب کی طرح دھڑا دھڑ فلمیں ملیں نہ اس کی اپنی غربت دور
ہوئی، حفیظ احمد نے بھٹی برادران کیلئے کئی اور بھی کامیاب فلمیں لکھیں
جن کا انجام سمجھوتہ نہیں تھا، وہ عنایت حسین بھٹی کے بھائی کیفی کا
اسسٹنٹ بھی رہا اور اس کے ادارے کو عمر عزیز کے کئی برس بھی دیے، ایک دن
سڑک پر پیدل چلتے چلتے میں نے اس سے پوچھا،، بھٹی برادران تمہیں معاوضہ
کتنا دیتے تھے؟ اس نے گہرا سانس لیا اور بولا،، میں نے ان کی فلمیں ہی
نہیں لکھیں ان کے ساتھ کئی سال ملازم کی طرح رہا بھی ، اور اس تمام عرصے
اور تمام فلموں کا اسے مجموعی طور پر پانچ ہزار روپے معاوضہ دیا گیا، میں
یہ سن کر حیران رہ گیا اور اس سے کہا ،،

در فٹے منہ تیرے انقلاب دا،،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حکومت بن جانے کے بعد میں نے عمران خان کے منہ سے پہلا فقرہ یہ سنا ،، وہ
سمجھوتے نہیں کریں گے، یقینآ آج پاکستان کے پاس سمجھوتوں کی گنجائش
نہیں، کوئی بھی سمجھوتہ پاکستان کی موت ہوگا،یہی تو ایک وقت ہے، دنیا کو
اپنی انا اور خودداری سے آشنا کرنے کا، اس سچ کا عمران خان کو مکمل طور
پر ادراک ہے کہ آج امریکہ کے ساتھ پہلی سی محبت نہیں رہی، بلکہ یہ کہنا
درست ہوگا کہ واشنگٹن سے اب کوئی راستہ اسلام آباد کی طرف نہیں جاتا، وہ
خود کہہ چکے ہیں کہ امریکہ پاکستان کو نیچ سمجھتا ہے ،غلاموں سے بھی نیچ،
امریکہ میں یہ سوچ خود ہمارے حکمران طبقات نے پیدا کی،پاکستان میں
خودداری کی سیاست کبھی کی ہی نہیں کی، جن سیاستدانوں نے ایسا کرنا چاہا
انہیں اسٹیبلشمنٹ اور اس کی حواری سیاسی پارٹیوں نے تماشہ بنا دیا، نیست
و نابود کردیا ،نشان عبرت بنا دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سالہا سال سے عمران خان کے حق میں بولنے والے کئی دانشور اور تجزیہ نگار
راستہ بدل سکتے ہیں، وہ ان سے زیادہ عمران خان کے خلاف بولیں گے جو ان کے
پیش رو ابتک بولتے چلے آئے ہیں، ان میں وہ عقل کل بھی ہو سکتے ہیں جو
کبھی عمران خان کے تنخواہ دار بھی رہے، ان میں وہ عناصر بھی ہو سکتےہیں
جو ٹیلی وژن اسکرینوں پر بیٹھ کر خود کو جرنیلوں کا رشتہ دار ثابت کر
دیتے ہیں، عمران خان یاد رکھیں! مخالف صحافتی دھڑوں کا کوئی ایک بھی ممبر
ان کی طرف نہیں آئے گا، کیونکہ صدر پاکستان، وزیر اعظم اور وزیروں کے
صوابدیدی فنڈز ختم کر دیے گئے ہیں

حکمرانوں کی مداح میں کالم لکھ کر میڈیا مالکان سے بھی مال ہتھیانے والے
کالمسٹوں سے گزارش ہے دل گرفتہ نہ ہوں، اللہ بہترین رزق دینے والا ہے،
ایک در بند ہو تو سو کھل جاتے ہیں۔ آپ کو لہریں گننے پر بھی لگا دیں
تووہاں سے بھی وصولیاں کر لیں گے

ایک سوال نئی حکومت سے۔۔۔۔

غریبوں کی بیٹیوں کی جسم مزدوریاں کب ختم ہوں گی ؟

جواب چھوڑیں