سانس لینے ایک متوازی نظام

Asif Shahkar
25

سانس لینے ایک متوازی نظام
سید آصف شاہکار

Column
حقوق اشاعت (copyright) صرف ہمارے پاس محفوظ ہیں۔اسےبغیراجازت چھاپنا،نقل کرنا،غیرقانونی ہے۔ ادارے کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

پیشوں کی خانہ بدوشی کا مجھ پر سب سے بڑا احسان چیزوں کے اندر اور باہر دیکھنے کی جانچ پڑتال کے گْر تھا۔ ان میں سب کچھ شامل ہے۔
مجھے فیشن کی تاریخ کا تو پکا وثوق تو نہیں کہ فیش کہاں سے آیا ۔ اس کی کب اور کیسے بنیاد رکھی گئی اور یہ ہر انسان کی زندگی کا آقا کیسے بنا لیکن مجھے ایک بات کا ٹھوس شعور ہے کہ فیشن ہر فرد کے وجود کا لازمی حصہ بن چکا ہے کوئی بھی اگرچہ وہ پیرس رہتا یا ایمیزون یا افریقہ کے جنگلوں میں الف ننگا رہتا ہے فیشن کا غلام ہے۔ کئی بار تو مجھے اس حد تک ایسے لگتا ے کہ ہر اِنسان ماں کی کوکھ سے ہی فیشن ساتھ لے کر پیدا ہوا۔ مجھے اچھی طرح یادے بہت سال پہلے میں پاکستان گیا تو لاہور رہتے میرے ایک رشتےدار کے گھر اسکے بچے کو اٹھانے کے لیے ایک بمشکل پانچ یا چھہ سال کی ایک عیسائی لڑکی نوکر تھا۔ اس کی حالت دیکھ کر صاف پتہ لگتا تھا کہ غریبی نے اس لڑکی کے خانداں کو نچوڑ کر رکھ دیا تھا۔ میرے رشتےدار کے گھر اسکو روٹی تو اچھی ملتی تھی لیکن باقی کوئی بھی بات انسانیت والی نہیں تھی یہ چوبیس گھنٹو ں کی غلام تھا بات بات پر گالیاں ، جھڑکیں جھاڑیں اور طمانچے۔ مجھے پورا یقین تھا کہ اس لڑکی نے پیسوں کی کبھی شکل تک نہیں دیکھی ہو گی کیوں کہ اسکی تنخواہ سیدھی اس کے ماں باپ کو پہنچ جاتی تھی۔ مجھے اس پر ترس آیا اور میں نے اسکو سو روپیہ دیا۔ جونہی اْس نے نوٹ پکڑا وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر باہر بھاگ گئی کْچھ دیر بعد جب وہ گھر پلٹ کر آئی تو اسکے ہاتھ میں سر کے بالوں کو لگانے والا کلپ تھا۔ جسکو اسنے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بڑے چاؤ کے ساتھ سرکے بالوں کو لگایا۔سر میں کلپ لگا دیکھ کر اسکی آنکھیں میں ایک خاص طرح کی چمک آئی اور میں صاف محسوس کر رہا تھا کہ اس کلپ نے اسکو ایک طرح کا فخر دیا۔ ویسے تو ہم میں سے ہر فرد چاہے وہ آقا ہے یا غلام ہے کسی نا کسی چیز کا غلام ہے۔ ان چیزوں میں سے اِنسان کا سب سے بڑا آقا فیشن ہے۔ یہ شاید مذہب سے بھی بڑا آقا ہے۔ ایک اِنسان مذہب ترک کر سکتا ہے لیکن فیشن نہیں۔ انسانیت کی خدمت کرنے والے عظیم انسان بھی فیشن کے غلام تھے، چاہے یہ کارل مارکس ہو یا عبدالستار ایدھی سب کوئی نہ کوئی فیشن ضرور کرتے تھے۔ فیشن کا تعلق صرف رہنے سہنے کھانے پینے یا پہننے تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ انسان کی زندگی میں ہر قدم پر اورہر جگہ ہر شکل میں موجود ہے۔

لفظوں کا بھی فیشن ہوتا ہے۔ ہر معاشرے میں کچھ نئے یا پرانے لفظ فیشن بن جاتے ہیں ، ہر شخص یہ لفظ استعمال کر کر فیشن ایبل بن جاتا ہے۔ ہر معاشرے میں یہ فیشن ایبل لفظ الگ الگ ہوتے ہیں۔ کہیں کوئی اور کہیں کوئی۔ پاکستان اور کئی سابقہ کالونیوں کے لوگوں میں مقامی زبانیں بولتے وقت سابقہ کالو نیل آقاؤں کی زبانوں کے لفظوں کا استعمال بھی فیشن ہے لوگ انگریزی کے لفظوں کے ذریعے اپنے پڑھے لکھے ہونے کا اشتہار لگاتے ہیں۔

پاکستانی معاشرے میں پچھلے کئی سالوں سے ہیومن رائٹس یا انسانی حقوق کا لفظ فیشن میں ہے۔ کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہوا ایک اور لفظ اظہار کی آزادی فیشن میں آیا ہوا ہے۔ ہو سکتا ہے اس لفظ نے پرانے ہندوں چینیوں بدھوں سو ماریں یہودیوں عیسائیوں مسلمانوں کے ہاں یا کسی اور تہذیب کے گھر جنم لیا لیکن ہمیں ہر سوچ اور فلسفے کی بنیاد تلاش کرنے کے لیے یورپ کے راستے پر ڈال دیا جاتا ہے اور یوں ہم پرانے یونانیوں یا رومنوں کے گھر پہنچ جاتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ہڑپا یا ٹیکسلا تہذیبیں عروج پر تھیں اس وقت ہم پر تھوپے گئے علم اور تہذیب کے یہ نام نہاد کعبے یونان اور روم جہالت کے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے تھے اور یہاں کے انسانوں اور مویشیوں میں کوئی فرق نہیں تھا لیکن ہمارے سفید نسل کے آقا ہم میں کْوٹ کْوٹ کربھر گئے کہ ہم جاہلوں اور جانوروں کی اولاد ہیں کی۔ ان سفید نسل کے آقاؤں کے چیلے ہمارے پروفیسر، دانش ور ، محقق صحافی تو ہے ہی ہیں لیکن ان سے بھی چار قدم آگے ہمارے مولوی اور عالم دین ہیں اگر ان کو کہا جائے کہ جمہوریت یا انسانی حقوق کا فلسفہ ہڑپا یا ٹیکسلا میں بیٹھے عالموں نےدیا تھا تو یہ فوراً ان کو کافر کہہ کر اس علم کو بھی کفر بنا دیں گے لیکن اگر ان کو یہ کہا جائے کہ جمہوریت یا انسانی حقوق کا فلسفہ سقراط افلاطون یا ارسطو نےدیا تھا اور یہ فورن سبحان اللہ کہہ دینگے۔سفید نسل کے لوگوں کے دکھائے ہوئے راستے کے مطابق اگر ہر علم سائنس اور فلسفے کی جنم دھانی یونان ہے تو انسانی حقوق اور اظہار کی آزادی کی پیدائش کی جنم جگہ بھی یونان ہے۔ اس کے بعد ہمیں برطانیہ اور فرانس میں آزادی کی لہر کی طرف لیجایا جاتا ہے کہ انگلینڈ میں انسانی حقوق کا بل بھی 1689 میں سامنے آیا جس کے ذریعے پارلیمنٹ کے ممبر کو تقریر کی آزادی کا آئینی حق دیا گیا اسکے بعد 1789 میں فرانس کے انقلاب کے بعد یہ حق سبھی شہریوں کو دیا گیا۔ اس کے بعد میں ان حقوق کی بات چلتی چلتی ایک انٹرنیشنل ضرورت بن گئی اور اس سلسلے میں بہت سی قرار دادیں پاس ہوئی اور قانون بنے۔ کچھ لوگ اظہار کی آزادی کو جمہوریت اور تہذیب کا لازمی حصہ کہتے ہیں لیکن حقیقت میں اظہار کی آزادی کا تعلق ایک اِنسان کے حقوق ساتھ ہے یہ اِنسان چاہے کسی بھی سماج میں رہتا ہے چاہے وہاں جمہوریت ہے بادشاہت ہے آمریت ہے یا کچھ اور۔ اظہار کی آزادی کی بنیادی روح مطابق انسان کے خیالوں اور راے کا آزاد تبادلہ free communication جو ایک انسان م کا سب سے قیمتی حق ہے۔ ہر انسان م بول کر لکھ کر چھاپ کر اپنا اظہار کر سکتا ہے۔ اس کےبعد میں اس میں تبدیلیاں ہونے لگ پڑیں اور شرائط شامل ہونے لگ پڑیں کہ دوسروں کو ڈرانا، جھوٹھی الزام تراشی بد اننتظامی ، فحش مواد ، پورنو گرافی ، بھڑ کان والا، لڑائی کے الفاظ ، خفیہ انفارمیشن ، کاپی را ئیت کی خلاف ورزی ، تجارتی راز، خوراک لیبلنگ، نا افشا کرنے والے معاہدے ، رازداری کاحق ، بھول جانے کا حق، سماجی سکیورٹی اور سلامتی کا خطرہ پیدا کرن والے لفظ بارے اظہار کی آزادی نہیں ہے

جان سٹویٹل مل کے ذریعے نقصان کی شقیں بھی شامل ہوگئیاں۔ نقصان کے اصول کے مطابق آزادی کی حد پار کر نے کی افراد کی کارروائی دوسرے افراد کو نقصان پہنچانے کے عمل کو روکنے تک محدود ہونی چاہیئے جان سٹیورٹ نے آزادی کے اس اصول بارے کہا کہ، ” کسی فرد پر اسکی مرضی اور خواہش کے خلاف طاقت استعمال کرنے کی آزادی صرف اس صورت میں جائز ہے کہ اسے دوسرے انسانوں کو نقصان پہچانے روکا جائے اس سے ملتی جلتی بات 789 میں انسانی حقوق بارے شہری کے حقوق کے بارے فرانس کے اعلامیہ میں پہلے ہی بیان کی گئی تھی “آزادی کا مطلب ہر چیز کو کرنے کی آزادی میں شامل ہے جب تک کوئی کسی انسان ا کا نقصان نہیں کرتا۔ اس کے علاوہ انسان کی آزادی کی کوئی حد نہیں۔ اس کی اس آزادی کو قابو کرن کا حق صرف قانون کو حاصل ہے

. اس کےبعد میں ان پابندیوں میں اور اضافہ ہوا ۔ کچھ یوروپی ممالک میں یہودیوں ساتھ کیے گئے ظلموں سے انکار پر بھی پابندی ہے۔ ان سبھی پابندیوں کے باوجود پوری مغر بی دنیا میں ان پابندیاں کو بڑھانے اور ختم کرن کی لسٹ میں کمی بیشی کرن کی جدوجہد ہوتی رہی اظہار کی آزادی کی طاقت کے ذریعے پوری دنیا بٹی ہوئی ہے۔ کچھ ملکوں میں یہ طاقتور ہے اور کئی ممالک انتہائی کمزور۔ کئی لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اظہار کی آزادی کسی بھی سماج میں آزادی کی حد کو ماپنے کا ایک پیمانہ ہے
جس معاشرے میں جتنی زیادہ اظہار کی آزادی ہوگی یہ سماج اتنا ہی آزاد ہے۔ جس سماج میں آزادی جتنی کم ہو گی یہ سماج اتنا ہی غلام ہے۔ ہر سماج جتنا غلام ہوتا ہے یہ اتنا ای ذلالت میں ڈوبا ہوتا ہے۔ کسی قوم کے مہذب اور پسماندہ تعین ہونے میں اظہار کی آزادی کا انتہائی اہم رول ہوتا ہے کچھ دانشوروں کےمطابق اظہار کی آزادی انسان کے لیے یوں ہی لازمی ہے جیسے ہوا، پانی، خوراک، روشنی ۔ انسان کے سانس لینے کے نظام کے متوازی سانس لینے کا ایک اور نظام بھی ہے یہ نظام اظہار کی آزادی کا نظام ہے
کئی ملکوں میں اور ان پابندیوں کی اتنی بھرمار ہو گئی کہ عملی طور پر اظہار کی آزادی ایک لفظ ہی رہ گیا۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں، نام نہاد مذہب مغربی قوموں یا سفید نسل کے دوہرے معیار رہے ہیں۔ اپنے لیے کچھ اور اپنی، کالونیوں کے لیے کچھ۔

1947 سے پہلے ہندوستان میں بھی اظہار کی آزادی کا یہی حال تھا۔ انگلینڈ میں اظہار کی آزادی کے قانون بنے اور ایک انگریز یہ آزادی ہندوستان میں بھی استعمال کر سکتا تھا لیکن ایک ہندستانی نہیں۔ اس کے لیے اظہار کی آزادی ایک جرم تھا۔ ان کالونیوں میں سے جو ملک آزادی لے کر آزاد اور خود مختار ہو گئے ان میں سے چند ایک نے اپنے آئین میں اظہار کی آزادی کا نقطہ بھی شامل کیا اور عملی طور پر اس آزادی کی اجازت بھی دی لیکن زیادہ تر سابقہ کالونیوں جن میں پاکستان بھی شامل ہے یہاں کالو نیل نظام کے قائم رہنے کے ساتھ ساتھ اظہار کی آزادی پر بھی پابندی رہی۔ پاکستان کے وجود آنے کے بعد جو بھی ٹوٹے پھوٹے آئین بنے ان میں اظہار کی آزادی کو اہمیت نہیں دی گئی۔ سبھی فوجی حکومتوں میں اظہار کی آزادی، جرم اور بغاوت تھا۔ پچھلے کچھ سالوں سے پاکستان میں اظہار کی آزادی کی بحث میڈیا کی آزادی کے حوالے سےگرم ہے۔ اس ایشو کے ساتھ تعلق رکھنے والی بے شمار این جی او بنیں ہیں۔ مشرف کے زمانہ میں میڈیا کی آزادی بارے جو تحریک بھی چلی تھی لوگ سمجھتے کہ میڈیا کی آزادی اور اظہار کی آزادی ایک ہی بات ہے جو کہ بالکل غلط ہے۔ میڈیا اظہار کی آزادی کا اوزار یا ترجمان نہیں اور نا ای ہو سکتا اے کیوں کہ میڈیا پر قبضہ ہے اور یہ غیرجانباری کی ضمانت نہیں دیتا میڈیا اپنے مفاد کے لیے انسان اور سنسر لگا دیتا ہے۔ یہی حال انٹرنیٹ کا ہے۔ سوشل میڈیا بھی دوسرے میڈیا طرح انسان کی اظہار کی آزادی پر پابندیاں لگاتا ہے۔

پاکستان میں اظہار کی آزادی پر بات چیت کرتے وقت بہت سی لوگوں کو تو اظہار کی آزادی کا علم ہی نہیں ہے۔ اگر اظہار کی آزادی کو ماپنے کے بین الاقوامی معیاروں ذریعے پاکستان میں اظہار کی آزادی کو ت ماپا لنا جائے تو اس ملک میں آزادی کی قسموں کی تعداد اور آزادی پر پابندیوں کی تعداد میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہاں تو ابھی لوگوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ وہ جان سکیں کہ اظہار کی آزادی کیا ہوتی اے؟ کیا یہ روحانی اے؟ مقدس اے؟ انسانی اے؟

جواب چھوڑیں