آخر اک دن لاوا پھوٹے گا، ظلم و ستم کا جادو ٹوٹے گا

149

خاور نعیم ہاشمی

ستم کی بے رحم ظلمتوں نے

حیات آدم سے روشنی کا

شعور ہی ختم کر دیا ہے

تھکے تھکے مضمحل سے انسان

ستم کی چکی میں پس رہے ہیں

نہ ہے کوئی محنتوں کا حاصل

نہ ہے کوئی زندگی کا مقصد

مگر وہ لاوا

جو چپکے چپکے

ضمیر آدم میں پک رہا ہے

کچھ ایسے بھڑکے گا

کچھ ایسے پھوٹے گا

پگھل جائے گا ظلمتوں کا جادو

ستم کی چکی میں پسنے والے

پٹخ کے احساس کم نصیبی

اٹھیں گے  تڑپ کے مثال ضیغم

جھپٹیں گے جہان جور  و ستم پہ

اور ان کے اپنے ہی خون کے چھینٹے

مٹا دیں گے سب ظلمتوں کے سائے

جواب چھوڑیں