خاورنعیم ہاشمی اورجنرل ٹکا خان کی ایک ملاقات جو سب کوحیران کر دے گی

پاکستان اب تک حقیقی جمہوریت سے محروم کیوں؟

335

لاہور کے صحافیوں کی جمہوریت کیلئے جدوجہد کے نناظر میں اایک تاریخی واقعہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.
جنرل ضیاء الحق نے1977 میں  پہلے منتخب وزیر اعظم چیرمین ذوالفقار علی بھٹو کی بھاری مینڈیٹ کے ساتھ منتخب  ہونے والی عوامی حکومت   کا تختہ الٹ دیا اور بھٹو صاحب کو ایک متنازعہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا

اقتدار سنبھالتے ہی  اس آمر نے جو دو چار بڑے اقدامات کئے، ان میں سے اسکا ایک نمایاں کام صحافیوں اور
اخباری کارکنوں میں نفاق ڈالنا تھا، اس کام کے لئے اسے سارے لوگ لاہور سے ہی مل گئے، لاہور کی مٹی نے جہاں بڑے بڑے قومی ہیروز کو جنم دیا ،وہیں اس شہر کی مٹی سودے بازوں، مفاد پرستوں، کاسہ لیسوں اور سازشیوں کے لئے بھی بہت نم بہت زرخیز رہی ہے
، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کا دستوری گروپ جنرل ضیاٗ کی نوازشات سے لاہور میں ہی تشکیل پایا، میں ان دنوں پنجاب یونین آف جرنلسٹس کا سیکرٹری اور بدر الاسلام بٹ صاحب صدر تھے، میرا  کھلا چیلنج تھا دستوری گروپ  کو،، اگر آپ واقعی صحافیوں کے نمائندہ یا لیڈر ہیں تو  لاہور میں اپنا کوئی اجلاس کوئی میٹنگ کرکے دکھائیں، اگر آپ اس میں کامیاب ہو گئے تو میں آپ کے گروپ میں  شامل ہو جاؤں گا،

جنرل ضیاء کی موت اور بےنظیر کے اقتدار میں آنے تک لاہور میں  یہ جرنیلی گروپ کوئی میٹنگ کوئی جلسہ نہ کر سکا ۔انکی ساری سرگرمیاں اسلام آباد یا کراچی تک محدود رہیں

،، بےنظیر نے اپنا پہلا اقتدار سنبھالنے کے بعد  مشرقی پاکستان کے شکست خوردہ ریٹائرڈ جنرل ٹکا خان کو پنجاب کا گورنر بنا دیا

، لاہور کے  آمریت کے خلاف قربانیاں دینے والے صحافیوں میں جنرل ٹکا خان کے بارے میں بد گمانیاں پیدا ہونے لگیں، اس وقت میں پنجاب یونین آف جرنلسٹس کا صدر منتخب ہو چکا تھا اور جنرل سیکرٹری تھے روزنامہ مشرق کے سینئیر سب ایڈیٹر محمد الیاس مغل، ایک انتہائی ایماندار، شریف النفس اور کمٹڈ  جرنلسٹ۔

لاہور کے صحافی گلہ کر رہے تھے کہ گورنر ہاؤس میں ہونے والی تقاریب میں جمہوریت آجانے کے بعد بھی جنرل ضیاء کے گماشتہ صحافیوں کو مدعو کیا جا رہا ہے اور جمہوریت کی بحالی کے لئے جدوجہد کرنے والے جرنلسٹوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جو ان کی توہین کے مترادف ہے

، بات تو درست تھی ۔ میں نے الیاس مغل سے کہا کہ جنرل ٹکا خان سے ملتے ہیں ہم دونوں اگلے روز گورنر ہاؤس کے ایک کمرے میں بیٹھے تھے، تھوڑے سے انتظار کے بعد جنرل صاحب تشریف لے آئے، سلام دعا کے بعد میں نے بلا توفق  ان کے سامنے مدعا بیان کر دیا، میری بات مکمل ہونے تک ٹکا خان ہمہ تن گوش رہے، چند لمحے کچھ سوچا اور پھر یوں گویا ہوئے

، ہاشمی صاحب، آپ کے خیال میں ، ضیاء الحق بے وقوف آدمی تھا ؟یا آپ مجھے سمجھتے ہیں؟

جن صحافیوں کے ساتھ جنرل ضیاء نے گیارہ برس کامیابی سے حکومت کی وہ زیادہ اہم ہیں یا آپ کے ساتھ  جدوجہد کرنے والے  صحافی ؟h

جواب چھوڑیں