حفیظ قندھاری صاحب

ایک منجھے ہوئے اسٹل کیمرہ مین

255

 

لاہور

پاکستان کی بعد سب سے بڑی بد قسمتی یہ  رہی ہےکہ اس مملکت کی تاریخ لکھنے کی ذمہ داری کسی نےنہ نبھائی، رائٹ ونگ کے دانشوروں نے نصابی اور غیر نصابی کتب کے ذریعے آنے والی ہر نسل کو وہی پڑھایا جو ان کے اپنے مفاد میں تھا، ہم نے نیا ملک تو بنا لیا ، لیکن نئے ملک کے تقاضوں کو نہ سمجھ سکے، کلچر مخالف قوتوں کی بالا دستی نے زمینی حقائق کو نظریات کی قبر میں اتار دیا ،
متحدہ ہندوستان کا ادب و ثقافت ہم نے ہندوستان کو تھمانے کے بعد خود فنون لطیفہ کو اسلام دشمن قراردیدیا،اس ساری تمہید کا مقصد آپ کو ایک ایسی شخصیت سے متعارف کرانا ہے،جسے یقینآ آپ نہیں جانتے ہونگے، اس جیسی سیکڑوں ہزاروں ہستیوں کو سپردخاک کرکے ہم خود بے نشان ہو چکے ہیں ۔

حفیظ قندھاری کہنے کو تو ایک اسٹل فوٹوگرافر تھے ، لیکن بے شمار خدا داد صلاحیتوں سے مالا مال ، انتہائی منحنی ،کمزور جسم کے مالک ، جب فیض احمد فیض ہفت روزہ ۔۔لیل و نہار۔۔ کے ایڈیٹر ہوا کرتے تھے تو انکے نام کے بعد دوسرا نام حفیظ قندھاری کا چھپتا تھا، سات بیٹیوں اور دو بیٹوں کے باپ تھے ، کرائے کے مکان میں رہتے تھے ، اس کنبے کی گزر بسر کیسی ہوتی تھی ؟ یہ سوال اس زمانے میں کبھی میرے دماغ میں نہیں ابھرا تھا، حفیظ قندھاری کتنی صلاحیتوں کے مالک تھے؟ یہ بات مجھے اس وقت سمجھ میں آئی، جب میں نے روزنامہ مشرق میں فلم ڈائریکٹر رزاق سے ریاض بٹالوی کا انٹر ویو پڑھا، رزاق نے کٹاری سمیت کئی خوبصورت فلمیں ڈائریکٹ کیں ، کٹاری میں زمرد کے ساتھ طارق عزیز ہیرو تھے، رزاق نے اپنے انٹر ویو میں ریاض بٹالوی کو بتایا کراچی میں پہلا انٹر نیشنل فلم فیسٹیول ہوا ، اس کے منتظم نعیم ہاشمی تھے ، میں ہاشمی صاحب سے ملا اور انہیں بتایا کہ فلم لائن جوائن کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے کہا کہ لاہور آؤ تو مجھے ملنا،، کچھ ماہ بعد میں لاہور پہنچ گیا، ہاشمی صاحب کا آفس لکشمی چوک میں تھا ، ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے میرا ہاتھ حفیظ قندھاری کو سونپتے ہوئے کہا کہ اس بچے کی تربیت کرو اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حفیظ قندھاری کتنی خوبیوں کے مالک ہونگے ساٹھ کی دہائی کے درمیانی سالوں میں حفیظ قندھاری کو میں روزانہ گھر میں اپنے والد کے پاس بیٹھا ہوا دیکھتا ، ہمارے گھر میں انگریزی اخبار پاکستان ٹائمز آتا تھا، ہاشمی صاحب اخبار آتے ہی اس کے مطالعہ میں لگ جاتے، جب حفیظ قندھاری آتے تو اخبار ان کے لئے فارغ ہو چکا ہوتا ، میں انہیں چاچا جی کہتا تھا، وہ اخبار اتنے انہماک سے پڑھتے کہ میں ان سے بہت متاثر ہونے لگا ، ایک دن جرآت کر کے ان سے پوچھ لیا ،، چاچا جی، آپ کی تعلیم کیا ہے؟ جواب ملا،، بیٹا میں پڑھ نہیں سکا تھا، میرا دوسرا سوال تھا،،،،، تو پھر آپ انگریزی اخبار کیسے پڑھ لیتے ہیں؟ بیٹا اخبار پڑھ پڑھ کر مجھے اخبار پڑھنا آ گیا۔۔۔۔ ایک دن چاچا جی حفیظ قندھاری نے مجھے کہا کہ انکے گھر میں ایک سپورٹس بائیسکل پڑی ہے، انکے دونوں بیٹے ابھی چھوٹے ہیں، لہذا وہ سائیکل میرے گھر سے تم لے آؤ ، اور میں انکے گھر پہنچ گیا جو رحمان پورہ کے قریب سلطان احمد خان روڈ پر تھا، میں نے انکی بیگم کو اپنے آنے کا مقصد بتایا تو انہوں نے کوئی بہانہ کر دیا ، لیکن ایک فرمائش جو انہوں نے مجھ سے کی ، اس کا پس منظر میں آجتک نہیں سمجھ سکا، کیا تم میری بیٹیوں کو ڈانس سکھا سکتے ہو؟ میں نے بھی دہلا مار دیا۔۔۔۔۔ کیوں نہیں۔۔۔۔۔ اس دن کے بعد پھر مہ و سال گزرتے رہے،،،، میں شاہ حسین کالج میں پڑھتا تھا ، جب میرے علم میں آیا کہ قندھاری صاحب کی دو بیٹیاں اسٹیج کی کامیاب ایکٹرسز بن چکی ہیں ، اس زمانے میں تھیٹر کا مرکز پرانی آرٹس کونسل تھی ، کبھی کبھار میں بھی اپنے کسی دوست کے ساتھ وہاں چلا جاتا ، اس زمانے میں بہت صاف ستھرے ڈرامے ہوا کرتے تھے ، لوگ فیملیز کے ساتھ جاتے تھے ، قندھاری صاحب کی جو دو صاحبزادیاں ڈراموں میں کام کر رہی تھیں ان میں ایک کا نام محفل آراء ، دوسری کا درخشی تھا ، لیکن آرٹس کونسل میں ماں ساتوں بیٹیوں سمیت دکھائی دیا کرتی تھی۔

پھر ایک دن کیا ہوا؟؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛

رات گیارہ بجے کا وقت تھا، میں بیڈن روڈ کی نکڑ پر کھڑا تھا، بیگم قندھاری کوپر روڈ گرلز کالج کی طرف سے ساتوں بیٹیوں کے ساتھ آ رہی تھیں، یہ فیملی میرے قریب پہنچی تو سلام دعا ہوئی، میں اس وقت اگرچہ خالی جیب تھا ، ان سے پوچھ بیٹھا کہ ،،، کیا آپ لوگ کھانا کھائیں گے؟ جواب ملا۔۔۔۔۔ ضرور کھائیں گے۔ یہ میں کیا کر بیٹھا؟ اب کیا کروں؟ ہم لوگ جس جگہ کھڑے تھے، اس کے قریب ہی چند قدم پر روزنامہ مغربی پاکستان کا دفتر ہوا کرتا تھا، اپنے جنگ والے امتیاز راشد شاہ صاحب اس کے چیف رپورٹر تھے، دفتر کی سیڑھیاں چڑھتے ہی ان کا کمرہ آتا تھا ، میں ان سب کو وہاں لے گیا، امتیاز راشد سے درخواست کی کہ میرے مہمان ان کے رپورٹنگ روم میں بیٹھ کر کھانا کھائیں گے، اس شریف آدمی نے اجازت دیدی تو میں لکشمی چوک پہنچ گیا، فلموں کے لئے کاسٹیوم تیار کرنے والے ماسٹر امام دین کے بیٹوں نے باپ کی دکان میں نیا نیا چوہدری ہوٹل کھولا تھا، وہاں دس آدمیوں کے کھانے کا آرڈر دے کر واپس مغربی پاکستان کے آفس مہمانوں کے پاس چلا آیا ، سب نے ڈنر کیا ، مہمانوں کو رخصت کرکے میں بھی رفوچکر ہوگیا۔۔۔۔۔۔ بہرہ برتن لینے آیا ھوگا تو اس نے بل بھی مانگا ہوگا، امتیاز راشد نے بل دیا یا نہیں دیا،، آجتک اس سے پوچھا نہ اس نے بتانے کی ذحمت گوارہ کی۔۔۔  اس واقعہ کے چالیس سال گزر جانے کے بعد بھی امتیاز راشد مجھے دیکھتا ہے تو مسکراتا ضرور ہے۔۔۔۔بالکل اسی طرح جیسے پرویز رشید ہر ملاقات ہر ہنس پڑتا ہے۔، پرویز رشید کیوں مسکراہتا ہے؟ یہ کہانی بھی آپ کو جلد سناؤں گا

جواب چھوڑیں