ایک تھی شہلا

خاور نعیم ہاشمی کی ایک اور اعترافی کہانی

304

وہ نیوائر پارٹی میں آئی تھی، ہال میں داخل ہوتے ہی سب کی توجہ کا مرکز بن گئی، منی اسکرٹ میں گوریوں کو بھی مات دے رہی تھی،اس کےسڈول اعضاء اعلان کر رہے تھے کہ اس کی
حکمرانی کے دن ہیں۔ لگتا تھا اس نے بڑے بڑے زاہدوں، عابدوں کی نیتوں میں فتور ڈالا ہوگا، رات کے دس بجنے کو تھے جب شہلا آئی ،پارٹی کا باقاعدہ آغاز ہونے میں ابھی دو گھنٹے باقی تھے، مہمان لڑکے لڑکیاں سب اپنے اپنے پسندیدہ مشروبات پینے میں مصروف تھے
شہلا کے آجانے سے گویا وقت ٹھہر گیا،وہ شمع جسے بجھایا جانا تھا۔اس کی لو تیز ہو گئی
ہر آدمی سوچ رہا تھا کہ رات بارہ بجے شاید لاٹری نکل آئےاور شہلااس کی ڈانس پارٹنر بن جائے، تھوڑی دیر بعد اچانک چہ میگوئیاں شروع ہو ئیں کہ شہلا غائب ہے، اسے تلاش کرنے کے لئے زیادہ تگ و دو نہ کرنا پڑی، وہ بازو والے کمرے میں ایک نوجوان صحافی کے ساتھ رازدادانہ گفتگو میں مصروف تھی،اب اس کے کمرے سے باہر آنے کا جان لیوا انتظار شروع ہوا، وہ بار بار کے بلاوے کے باوجود باہر نہیں آ رہی تھی،سب خیال کر رہے تھے کہ نوجوان صحافی نے جو اس کے ساتھ کمرے میں موجود ہے اسے آتے ہی پٹا لیا ہے اور وہ دونوں عشق فرما رہے ہیں
شہلا کو باہر بیٹھے مہمانوں میں واپس لانے کے لئے ہر جتن کیا گیا،لیکن سب کاوشیں بے سود ،نیو ائر پارٹی کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا تھا، اب بارہ بجنے میں اب صرف دس منٹ باقی تھے،جو لوگ شہلا کی ہال میں واپسی کی آخری کوششیں کر رہے تھے، انہوں نے کہنا شروع کردیا کہ وہ تو اندر ایک دوسرے سے بغلگیر ہو کر رو رہے ہیں، پھر ان دونوں کی زوردار ہچکیاں بھی سنی گئیں، یہ وہ لمحات تھے جب نیو ائر منانے کے لئے جمع ہونے والے سبھی افراد کے چہروں پہ ہوائیاں اڑنے لگیں، کسی کو سمجھ نہ آرہا رھا تھا کہ ماجرہ کیا ہے؟ صرف دس سیکنڈ باقی تھے بارہ بجنے میں کہ وہ دونوں کمرے سے باہر نکل آئے،ہال میں زور دار کلیپنگ ہوئی، اس سے پہلے کہ بتیاں بجھادی جاتیں ہال میں ایک زور دار چیخ گونجی۔ شہلااس پارٹی میں نہیں ناچے گی، شہلا میری بہن ہے، یہ اس نوجوان صحافی کی آواز تھی جو شہلا کے ساتھ کمرے میں تھا

محفل میں مکمل خاموشی چھا گئی، کوئی کسی سے نظر نہ ملا رہا تھا، سب خود کو گنہگار سمجھ رہے تھے،اس محفل سے سب سے پہلے بھاگا، اعجاز، شہلا اسی کی وساطت سے یہاں آئی تھی،دوسرے بھی آہستہ آہستہ کھسکنےلگے۔
شہلااس نوجوان صحافی کی بہن نہیں تھی،شہلا کا سابق خاوند اس نو جوان کے بڑے بھائی کا دوست تھا، وہ اپنے ازواجی دنوں میں شہلا کے ساتھ ان کے گھر جایا کرتا تھا ،اور چیخنے والا نوجوان شہلا کو باجی کہا کرتا تھا،
۔۔۔۔۔۔
اس حوالے سے آپ مزید کہانیاں پڑھ سکتے ہیں
khawarhashmi.blogspot.com

جواب چھوڑیں