ایکواڈور نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کو شہریت دیدی

Julian Assange
29

  برطانیہ(24گھنٹے)

ایکواڈور نے 2010 میں امریکی فوج کی خفیہ معلومات افشا کرنے والے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کو شہریت دیدی۔

ایکواڈور کی وزیر خارجہ ماریہ فرنینڈا اسپنوسا نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ جولین اسانج نے شہریت کی درخواست دی تھی اور وہ 12 دسمبر 2017 سے ایکواڈور کے شہری ہیں۔

وکی لیکس کے بانی کو شہریت دینے کا فیصلہ برطانیہ کی جانب سے جولین اسانج کو سفارتی درجہ دینے کی درخواست مسترد کرنے کے بعد کیا گیا۔ جولین اسانج کو سفارتی درجہ دینے کا مقصد انہیں گرفتاری سے استثنیٰ دلانا تھا۔

برطانوی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ ایکواڈور نے جولین اسانج کو سفارتی درجہ دینے کی درخواست دی تھی جسے مسترد کر دیا گیا، ہم اس حوالے سے ایکوارڈور حکومت کے ساتھ رابطے میں بھی نہیں ہیں۔

ماریہ فرنینڈا نے کہا کہ ہم نے برطانیہ کے ساتھ وکی لیکس کے بانی کے معاملے کو باوقار طریقے سے حل کرنے کے لیے جولین اسانج کو ایکواڈور کی شہریت دی۔

انہوں نے کوئٹو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جولین اسانج کو ایک تیسری ریاست سے جان کا خطرہ ہے۔

خیال رہے کہ جولین اسانج نے 2012 سے برطانیہ میں ایکواڈور کے سفارتخانے میں سیاسی پناہ لے رکھی ہے۔

سویڈن کی حکومت ایک ریپ کیس میں ملوث ہونے پر برطانیہ سے جولین اسانج کی حوالگی کا مطالبہ کررہی ہے تاہم وکی لیکس کے بانی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

سویڈن کے پراسیکیوٹر گزشتہ برس مئی میں جولین اسانج کے خلاف زیادتی کی تحقیقات کا باب بند کر چکے ہیں لیکن وکی لیکس کے بانی برطانوی پولیس کو ضمانت نہ لینے کے کیس میں مطلوب ہیں۔

دوسری جانب جولین اسانج کو خدشہ ہے کہ انہیں گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کر دیا جائے گا جہاں ان سے 2010 میں امریکی فوج کی خفیہ معلومات افشا کرنے کے حوالے سے تحقیقات کی جائیں گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.