اللہ کرے اسے کوئی تماش بین نہ ملا ہو

189

سوا چھ فٹ کا خوبرو جوان، گوری چٹی رنگت۔ میں سات آٹھ برس کا تھاجب لکشمی چوک میں مشتاق پان شاپ کے قریب کھمبے پر لٹکا ہوا ایک فلمی پوسٹر دیکھنا شروع کیا، فلم کا نام
تھا ، کئی سال پہلے،، رخسانہ اور ترانہ کے ساتھ ہیرو تھا نیا لڑکا الطاف خان، فلم کا پروڈیوسر ، ڈائریکٹر دلاور جو فلموں کے لئے ماسک بنانے کا ماہر تھا، قیام پاکستان سے دوسال پہلے بی آر چوپڑا کے یونٹ میں شامل ہو کر کلکتہ بھی گیا تھا،میں دس بارہ سال کا ہو گیا فلم مکمل ہو کر بھی ریلیز نہ ہو سکی۔ ہم مزنگ سے اچھرہ شفٹ ہوئے تو اخبار فروش یونین کے بانی مولوی حبیب اللہ نے میرے والد کے کہنے پر اسی گلی میں مکان بنا لیا ، مولی صاحب کا بڑا بیٹا اختر حبیب چلتا پرزہ تھا، اس کی روزانہ کوئی نہ کوئی کہانی سننے کو ملتی، پتہ چلا کہ الطاف خان ایکٹر بھی اس کا دوست ہے اور اختر ہی اسے کہیں نہ کہیں رہنے کے لئے کمرہ یا مکان لے کر دیتا ہے، اختر حبیب الطاف خان کے بارے میں ہمیں بھی بتایا کرتا تھا،
الطاف خان کے نام کے ساتھ ایکٹر کا لاحقہ تو لگ گیا تھا مگر اس کی کوئی فلم نہیں آئی تھی، ہم بڑے ہوئے تو اسے پنجابی فلموں میں چھوٹے موٹے رول کرتے ہوئے دیکھا، حسن عسکری نے اسے پہلی بار وحشی جٹ میں نمایاں کردار دیا ،وہ سلطان راہی کا وفادار دوست بنا تھا ۔ انہی دنوں اس کی شادی ہو گئی، اختر حبیب نے اسے اپنے گھر کے ساتھ والا مکان کرائے پر لے دیا ، الطاف خان صبح دس گیارہ بجےرکشے پر اسٹوڈیو جاتے ہوئے نظر آتا، یا کبھی رات گئے واپسی پر، کردار چھوٹے چھوٹے ہی سہی وہ مصروف بہت ہو گیا تھا، اس کی فلموں کی تعداد ہزار سے زیادہ ہی ہوگی، پہلے اس کے گھر بیٹی پیدا ہوئی پھر بڑی منتوں کے بعد بیٹا،بیٹے میں لڑکیوں والی خصلتیں تھیں، شاید یہ قدرت کی طرف سے تھا،، دن مہینے اور مہینے سال بنتے رہے، ایک وقت آیا کہ لوگوں نے الطاف خان کے گھر کے باہر کھڑے ہو کر لڑائی جھگڑے شروع کر دیے، شور ہوتا تو محلے کے لوگ بھی جمع ہو جاتے ، پتہ چلا کہ الطاف خان کی بیوی کمیٹیاں ڈال کر کھا جاتی تھی ، جنہیں وعدے کے مطابق کمیٹی نہ ملتی وہ اس کے گھر کے باہر احتجاج کرتے، یہ بھی پتہ چلا کہ الطاف خان کے سالے کسی چھوٹے موٹے اسٹیشن کے لئے فلمیں خریدتے ہیں ، فلم ناکام ہو جاتی ہے اور کمیٹیوں والوں کی رقمیں ڈوب جاتی ہیں ،، یہ سلسلہ ایک عرصے تک چلتا رہا، الظاف خان کے دونوں بچے سیانے ہونے لگے، انہیں صرف دن میں ایک آدھ بار گلی کی نکڑ پر پرچون کی دکان تک جانے کی اجازت تھی،
پھر ایک دن الطاف خان کی بیوی مر گئی۔۔۔۔۔۔ میں بھی اس کے جنازے میں شریک تھا، قبرستان میں دفناتے وقت تھوڑی دور کھڑا ہوا ایک آدمی کہہ رہا تھا، بہت کمیٹیاں کھا کر مری ہے یہ عورت۔ پھر الطاف خان دن چڑھے بیکری تک جاتے ہوئے نظر آنے لگا، اس کے ہاتھوں میں ڈبل روٹی اور انڈے ہوتے، اس کے بعد وہ حسب معمول اسٹوڈیو چلا جاتا ، بچوں کو اسکولوں سے اٹھا لیا گیا ، اس کی عدم موجودگی میں بچوں کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہ تھی، الطاف خان کبھی معاوضہ لینے والا ایکٹر نہیں بن سکا تھا، مزدوروں کی طرح شفٹ کے پیسے ملتے تھے اسے، وہ ایک دیہاڑی دار ایکٹر تھا، لگ گئی تو ٹھیک ورنہ خالی جیب گھر واپسی، وہ بہت کم گو تھا، ہمیشہ نظریں زمین پر گاڑھ کر چلتا تھا، سالہا سال تک ایک ہی محلے میں رہنے کے باوجود کسی سے علیک سلیک بھی نہ تھی، اس کا دوست اختر حبیب بھی بہت سال پہلے کسی دوسرے علاقے میں منتقل ہو چکا تھا،
ایک دن عجب واقعہ ہوا ، الطاف خان اچانک ہاتھ جوڑے، منتیں کرتے ہمارے صحن میں گھس آیا، اس سے پہلے وہ کبھی ہمارے گھر نہیں آیا تھا،،بہت خوفزدہ تھا وہ اس وقت ، باہر گلی میں شور تھا، وہ مجھے کہہ رہا تھا کہ مالک مکان گھرخالی کرانے آ گیا ہے ۔ پچھلے تین ماہ کا کرایہ مانگ رہا ہے، میں اس کی مدد کروں اور اسے کچھ دنوں کی مہلت دلا دوں ، الطاف خان کے مالک مکان کی اسی علاقے میں پرچون کی دکان تھی ،میں نے گلی میں جا کر اس سے بات کی ،، اس کا کہنا تھا کہ وہ تین ماہ کا کرایہ معاف کرتا ہے ، یہ آج ہی مکان خالی کر دے میں نے چند دنوں کی مہلت کے لئے کہا تو مالک مکان نے کہا تو پھر آپ پچھلا کرایہ ادا کر دیں۔ میں نے ایک ماہ کا کرایہ ادا کرکے الطاف خان کو دو ہفتوں کی مہلت دلا دی، الطاف دو ہفتوں سے پہلے ہی مکان چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا،، کئی دنوں کے بعد اس کی بیٹی اور بیٹا میرے پاس آئے اور انکشاف کیا کہ ان کا باپ انہیں دوسرے کرائے کے مکان میں لے گیا تھا، پہلے دن انہوں نے نئے گھر میں بازار سے آنے والا کھانا ایک ساتھ کھایا، باپ اسٹوڈیو چلا گیا، پھر واپس نہیں آیا، بچوں کو کھانا نئے گھر کی مالک خاتون کھلا رہی تھی، ہفتہ سے زیادہ دن گزر گئے تھے، بچوں نے تینوں اسٹوڈیوز کے کئی چکر کاٹے اس کا کوئی پتہ نہ چل رہا تھا،اس کی تلاش کے لئے میڈیا کی مدد لی گئی ، الیکٹرانک میڈیا نے رپورٹس چلائیں ، سب بے سود ، بچوں کو ان کا ماموں لے گیا جو خود ایک کمرے کے گھر میں بیوی اور کئی بچوں کے ساتھ رہ رہا تھا، کئی ھفتے گزر گئے الطاف خان کو لا پتہ ہوئے ، میں خود بھی ہر کوشش کر رہا تھا، ایک دن مجھے اطلاع ملی کہ وہ ملتان میں ہے، ایک سینما ہاؤس میں ہونے والے اسٹیج ڈرامے میں کام کر رہا ہے، اور رات کو وہیں سو جاتا ہے، اس کے دونوں بچے اسے لینے گئے، میں نے ڈرامے کے پروڈیوسر کے موبائل پر خود بھی اس سے بات کی، وہ واپس آنے کو تیار ہوا نہ بچوں کو اپنے پاس رکھنے پرالطاف خان نے مجھے بتایا کہ اس کی بیٹی نے اس سے کہا تھا کہ آپ تو ہمیں دو وقت کی روٹی بھی پوری نہیں کھلا سکتے ، لہذا اس کو اجازت دیدیں فلموں میں کام کرنے کی باپ سے ملاقات کے بعد دونوں بچے اپنے ماموں کے ساتھ آخری بار مجھ سے ملے تو الظف خان کی صبح کی طرح اجلی بیٹی نے مجھے علحدگی میں لے جا کر کہا آپ کا کوئی جاننے والا ہے،جو مجھے رکھیل رکھ لے، میں اپنے بھائی کو پڑھانا چاہتی ہوں میری آنکھیں یہ سوال سن کر مارے شرم کے زمین میں گھڑھ گئیں، دماغ سن ہو گیا،، میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا اس کے اس سوال کا۔ کچھ عرصہ پہلے ملتان سے ہمارے دوست جمشید رضوانی نے فون کرکے بتایا کہ جس الطاف خان کو آپ ایک بار ڈھونڈھ رہے تھے وہ مر گیا ہے ، یہاں کسی کو پتہ نہیں کہ لاش کہاں پہنچانی ہے۔

جواب چھوڑیں